فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حکومتی کمیٹی اس وقت تک اپنا کام جاری رکھے گی جب تک رام اللہ میں وزیراعظم رامی الحمد اللہ کی زیرنگرانی قائم حکومت غزہ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں حسن طریقے سے انجام نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے غزہ کے ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ روکنے کے لیے انہوں نے پلان تیار کرلیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی جبری ریٹائر منٹ کے خلاف فلسطینی قوم متحد Â ہے تاہم وہ تمام ملازمین جنہیں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے تنخواہ ادا کی جاتی ہے کو ریٹائر کردیا جاتا ہے تو غزہ میں تمام وزارتیں اپنے کام شروع کردیں گی۔
ڈاکٹر احمد بحر نے کہاکہ انہوں نے مجلس قانون ساز کو فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے سرکاری ملازمین کو جبری ریٹائر کیے جانے کے بارے میں مطلع کردیا ہے۔ قانون ساز کونسل کو بتایا گیا ہے کہ اگر فلسطینی صدر عباس کی طرف سے غزہ کے سرکاری ملازمین کو قبل از وقت جبری ریٹائرکیا جاتا ہے تو حکومتی کمیٹی اپنی ذمہ داریاں انجام دے گی۔
ادھر غزہ کی پٹی کے ارکان پارلیمان نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ سے غزہ میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی پرعائد ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 11 ہزار ملازمین میں سے 95 فی صد صحت اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں جنہیں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ سے تعلیم اور صحت کے شعبے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
