فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ وہ عرب لیڈر جنہوں نے قبلہ اوّل کے لیے کچھ بھی نہیں کیا وہ بھی مسجد اقصیٰ کو کھولے جانے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔
ایک بیان میں الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ پر عاید اسرائیلی پابندیاں فلسطینی قوم کی مسلسل قربانیوں اور احتجاج کےبعد ہٹائی گئی ہیں۔ فلسطینی نمازیوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر قبلہ اوّل کو اسرائیلی پابندیوں سے آزاد کرایا ہے۔ اس میں کسی مسلمان، عرب یا کسی دوسرے ملک یا لیڈر کا کوئی کردار نہیں۔ جو عرب لیڈر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ پر عائد کردہ پابندیاں ان کی مساعی سے ہٹائی گئی ہیں وہ فلسطینی قوم اور پوری دنیا کو بے وقوف بنا رہےہیں۔ فلسطینی عالم دین کا کہنا تھا کہ قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ کس نے دفاع قبلہ اوّل کے لیے کتنا کردار ادا کیا ہے۔ عرب ممالک کا دفاع قبلہ اوّل کے حوالے سے کردار انتہائی شرمناک رہا ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ سنہ 1967ء کے بعد بیت المقدس میں قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے پہلی بار عظیم الشان تحریک اٹھی جس نے قبلہ اوّل پر پابندیوں کے صہیونی عزائم خاک میں ملا دیے۔ فلسطینی قوم جانوں پر کھیل کر دفاع قبلہ اوّل کے لیے آگے نہ آتی تو اسرائیل پابندیاں ختم نہ کرتا۔
