فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے غرب اردن، مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں دفاع الاقصیٰ ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ کی اور دھاتی گولیوں سے انہیں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے۔
ادھر بیت المقدس میں محکمہ اوقاف نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کےتمام دروازے کھول دیے ہیں اور مسجد میں کم سے کم عمر کی حد کی شرط بھی ختم کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کو اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں البریج پناہ گزین کیمپ کے قریب فلسطینی شہریوں کی ایک ریلی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک بچہ شہید اور دو فلسطینی زخمی ہوگئے۔ فلسطینی سیکیورٹی ذریعے کے مطابق صہیونی فوج نے تل ام حسنیہ کے مقام پر فلسطینی ریلی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 16 سالہ عبدالرحمان حسین ابو ھمسیہ شہید ہوگیا جب کہ 20 سالہ اسماعیل عماد جبر اور 23 سالہ مومن علی الخالدی گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگئے۔
ادھرفلسطینی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں عتصیون چوک کے قریب اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی جس کےنتیجے میں 23 سالہ عبداللہ طقاطقہ شہید ہوگیا۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے من گھڑت کہانی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طقاطقہ نے ایک اسرائیلی فوجی کو چاقو گھونپنے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گولیاں ماری گئیں۔
