فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت یورپی عدالت انصاف کے فیصلے کو قبول نہیں کرتی۔ حماس کا دہشت گردی کےساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حماس کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنا مظلوم فلسطینی قوم کی جدو جہد کے ساتھ مذاق ہے۔ حماس یورپی عدالت کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس بنیادی انسانی اقدار، جمہوریت، انسانی حقوق اور شہری آزدایوں پریقین رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حماس فلسطین پر قابض غاصب دشمن کے خلاف فلسطینی قوم کے حقوق کے حصول کے لیے جدو جہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی عدالت انصاف نے اسرائیلی جرائم کی پردہ پوشی اور حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر یہ تاثر دیا ہے کہ یورپی ممالک فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق بالخصوص حق خود ارادیت کی نفی کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس اور فلسطینی قوم کو بہ خوبی ادراک ہے کہ مغربی ممالک اور مغربی اداروں کی جانب سے اسرائیل کو سیاسی، سفارتی، مادی اور معنوی مدد حاصل ہے اور وہ اپنی عدالتوں کو اسرائیلی جرائم کے دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز یورپی یونین کی ایک عدالت نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قراردینے کے خلاف ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جماعت کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل رکھا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ یورپی عدالت نے صہیونی لابی کے دباؤ اور مغربی میڈیا کی من گھڑت کہانیوں کی بنیاد پرایک غیر منصفانہ فیصلہ کیا ہے۔ حماس اس فیصلے کی پابند نہیں اور اسے کھلے الفاظ میں مسترد کرتی ہے۔
