فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمود عباس نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ ایک ہی شرط پر سیکیورٹی تعلقات بحال ہوسکتے ہیں کہ وہ 14 جولائی کے بعد قبلہ اول میں فلسطینیوں کے داخلے پرعائد کردہ تمام پابندیوں اور حرم قدسی کے اسٹیٹس کو کی تبدیلی کے تمام اقدامات کو واپس لیں۔
صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل نے حرم قدسی اور قبلہ اوّل کے حوالے سے جو بھی اقدامات کئے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں اورانہیں فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
جب بیت المقدس میں حالات مکمل طورپرمعمول پرآئیں تو ہمارےاور اسرائیل کے درمیان معمول کے مطابق سیکیورٹی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندیوں کی وجہ سے تعلقات منجمد کردیے تھے۔
صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون منجمد کرنے کے ہمارے فیصلے کا پس منظر حرم قدسی اور مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیاں ہیں۔ ہم اپنے اس فیصلے پرقائم ہیں۔ ایسا کرنا مقدسات کےدفاع کے لیے ناگزیر تھا۔ ہم مزید سوچ بچار کررہے ہیں کہ ہمیں آئندہ کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس آج بدھ کو بھی ہوگا جس میں مسجد اقصیٰ پر عائد کردہ اسرائیلی پابندیوں اور بیت المقدس میں پیدا کشیدگی پر غور کیا جائے گا۔
گذشتہ روز اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے باہر نصب کردہ میٹل ڈی ٹیکٹر ہٹا کر ان کی جگہ اسمارٹ کیمرے نصب کرنا شروع کیے تھے تاہم فلسطینی شہریوں نے اسرائیل کے تمام حربوں کو مسترد کردیا ہے۔
گذشتہ روز بھی سیکڑوں فلسطینی مسجد اقصیٰ کے باب الاسباط کے باہر موجود رہے۔ جہاں ان کی اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ فلسطینیوں نے باب الاسباط ہی میں نمازیں ادا کیں۔ انہوں نے اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے سیکیورٹی کی آڑ میں مسجد اقصیٰ میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کو بھی مسترد کردیا۔
