فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سماجی کارکن ریاض الاشقر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز رکن پارلیمان عمر عبدالرزاق کے سلفیت شہر میں گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
ریاض الاشقر کا کہنا ہے کہ عمر عبدالرزاق کی یہ پہلی گرفتاری نہیں بلکہ وہ چھ بار پہلے بھی گرفتار ہو کر چھ سال تک اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹ چکے ہیں۔ سنہ 2014ء کو انہیں حراست میں لے کر9 ماہ تک مسلسل پابند سلاسل رکھا گیا تھا۔
اسرائیلی زندانوں میں قید دیگر منتخب فلسطینی ارکان پارلیمان میں 51 سالہ محمد اسماعیل الطل بھی شامل ہیں جو خرابی صحت کے باوجود صہیونی عقوبت خانوں میں انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت پابند سلاسل ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے فلسطینی ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے جمہوریت کے عالمی علم برداروں کے کردار پرسوالیہ نشان اور ان کے منہ پر زور دار طمانچہ قرار دیا ہے۔
