فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی فوج کی بھاری نفری نے مسجد اقصیٰ کو مسلسل گھیرے میں لے رکھا ہے۔ مسجد اقصیٰ فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردی گئی ہے جب کہ بیت المقدس میں فضاء سخت کشیدہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے کل جمعرات کو بھی مسجد اقصیٰ کا گھیراؤ فلسطینی مظاہرین پر تشدد جاری رہا۔ مسجد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر صہیونی فوج اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ اس موقع پر صہیونی آباد کاروں کی مسجد اقصیٰ میں آمد اور تلمودی تعلیمات کی روشنی میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کا ڈھونگ بھی جاری ہے۔ مگر دوسری جانب مسجد کو کھولے جانے اور اس کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے فلسطینیوں پر صہیونی فوج وحشیانہ تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہلال احمر فلسطین کے طبی عملے کی طرف سے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کو کھولے جانے کے حق میں مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں پر آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج، دھاتی گولیوں کا استعمال اور صوتی بم استعمال کیے ہیں جس کے نتیجے میں کم سے کم 78افراد زخمی ہوگئے۔ Â زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔
زخمیوں میں سے 35 Â کو فوری طور پرموقع پر طبی امداد مہیا کی گئی جب کہ ایک درجن سے زائد زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان تازہ تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صہیونی فوج نے مسجد اقصیٰ کو فلسطینی نمازیوں کی عبادت کے لیے بند کر رکھا ہے۔ فلسطینی عوام میں قبلہ اوّل کی بندش اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کا کہناہے کہ مسجد اقصٰی کے باہر فلسطینی شہریوں نے اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور قبلہ اوّل کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا جسے منتشر کرنے کے لیے صہیونی فوج نے وحشیانہ لاٹھی چارج، آنسوگیس کی شیلنگ اور دھاتی گولیوں کا استعمال کیا۔ فلسطینی مظاہرین کی جانب سے بھی دشمن پر سنگ باری کی گئی اور ان پر پٹرول بموں سے حملے کیے گئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں الرام، العیزریہ، الطور، العیسویہ اور صور باھر کے مقام پر فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مشتعل فلسطینی مظاہرین نے صہیونی فوج پر سنگ باری کی، اسرائیلی فوج نے پرتشدد ہتھکنڈے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کئی فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
