غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے غزہ کی پٹی کے مریضوں پر عائد کردہ سفری پابندیوں کے نتیجے میں علاج کی سہولت نہ ملنے پر ایک اور فلسطینی شیرخوار دم توڑ گیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ چھ ماہ کے ایک نومولود بچے Â علی فادی احمد کو پیدائش کے فوری بعد الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں داخل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں بچے کے علاج کی سہولت موجود نہیں اور اسے غزہ سے باہر دوسرے کسی شہر میں موجود استال میں منتقل کیا جائے۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے عائد کردہ Â پابندیوں کے نتیجے میں شدید بیمار بچے کو غزہ سے باہر نہیں لے جایا جاسکا جو اس کی موت کا موجب بنا ہے۔اشرف القدرہ نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے تین ہفتے قبل غزہ کے مریضوں پر عائد کردہ سفری پابندی کے بعد اب تک 18 مریض دم توڑ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ دو ہفتے قبل فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کے مریضوں کو غزہ سے باہر دوسرے شہریوں، اسرائیل یا اردن لے جانے پر پابندی عائد کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈیڑھ درجن شہری جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث دم توڑ چکے ہیں۔
