فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی سینیر رہنما اور فلسطینی قانون ساز کونسل کی منتخب رکن خالدہ جرار کی گرفتاری پر فلسطین کے سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ترجمان افیحائی ادرعی نے کہا ہے کہ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور اس کی رہنما خالدہ جرار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اس کا پارلیمنٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
خیال رہے کہ خالدہ جرار کو 2015ء میں بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت بھی ان پر اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے۔
گذشتہ روز قابض فوج نے رام اللہ میں خالدہ جرار کے گھر پر چھاپے کے دوران گھر میں موجود قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور لوٹ مار کے بعد خالدہ جرار کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
صہیونی فوج کے ترجمان نے ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے غرب اردن کے شہروں سے مشتبہ اشتہاریوں سمیت نو فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے جنہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے غرب اردن کی سرکردہ خاتون سماجی کارکن ختام مسعافین اور سابق اسیر ایہاب مسعود سمیت متعدد دیگر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔فلسطینی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے ایک بیان میں خالدہ جرار کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرار کی گرفتاری فلسطینی پارلیمانی نظام پر حملے کی اسرائیلی سازش ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ڈاکٹر بحر نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سےفلسطینی ارکان پارلیمان کو جیلوں میں ڈالنے اور ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کی پالیسی زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید منتخب فلسطینی ارکان پارلیمان کی رہائی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور فلسطینیی پارلیمنٹ کو تحفظ فراہم کرے۔
