رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی تفتیشی ادارے’شاباک‘ نے ’مجد‘ جیل میں کئی ہفتوں سے قید تنہائی میں ڈالے گئے فلسطینی احمد المغربی کو مزید ایک ماہ تک قید تنائی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کلب برائے اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شاباک‘ نے 42 سالہ اسیر المغربی کی قید تنہائی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔کلب برائے اسیران کا کہنا ہے کہ صہیونی جیل انتظامیہ نے احمد المغربی کو مطلع کیاہے کہ خفیہ ادارے شاباک نے اسے مزید ایک ماہ تک قید تنہائی میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ احمد المغربی کو اسرائیلی فوج نے چندہ ہفتے قبل ریمون جیل سے بغیر کسی واضح سبب کے مجد جیل کی ایک تاریک کوٹھڑی میں منتقل کردیا تھا جس کے بعد وہ مسلسل قید تنہائی کا شکار ہیں۔
خیال رہے کہ احمد المغربی کو اسرائیلی عدالت سے 18 بار عمر قید اور 8 سال اضافی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ نو سال سے اسرائیلی جیل میں قید ہیں اور کئی بار قید تنہائی کا سامنا کرچکے ہیں۔ انہوں نے قید تنہائی کے خلاف بہ طور احتجاج سنہ 2012ء کو طویل بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
خیال رہے کہ اسیر المغربی تین بچوں کے باپ ہیں۔ ان کے اہل خانہ اور بچوں کو ان سے ملاقات سے محروم رکھا جاتا رہا ہے۔ ان کی دو بچیاں مصنوعی طریقے سے ان کے نطفے کی منتقلی کے ذریعے پیدا کی گئی ہیں۔ان کی Â اہلیہ گذشتہ تین سال سے صف ایک بار اپنے اسیر شوہر سے ملاقات کرچکی ہے۔