فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی رکن اسمبلی اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما ڈاکٹر محمد ماہر بدر کو مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج نے بدھ کو علی الصباح حماس کے رکن اسمبلی ماہر بدر کےالخلیل شہر میں قصر ابو عطوان کے مقام پر واقع گھر کا محاصرہ کیا۔ اس کے بعد کچھ فوجی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ گھر میں تلاشی کی آڑ میں توڑپھوڑ اور لوٹ مار کی گئی جس کے بعد ماہر بدر کو ایک فوجی گاڑی میں ڈال کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
فلسطینی رکن اسمبلی کی اہلیہ سائدہ بدر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق رات اڑھائی بجے ان کے گھر کا محاصرہ کیا۔ میرے شوہر کی شناخت کرنے کے بعد انہیں ایک فوجی گاڑی میں ڈال دیا گیا جب کہ تمام خواتین اور بچوں کو ایک کمرے میں بند کرکے گھر میں بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے شوہر کا موبائل فون بھی قبضے میں لیا اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی رکن اسمبلی ماہر بدر کی یہ پہلی گرفتاری نہیں۔ وہ اس سے قبل تقریبا دس سال تک صہیونی عقوبت خانوں میں قید وبند کی صعوبتیں جھیل چکے ہیں۔ ڈاکٹر ماہر بدراسلامی شریعہ میں پی ایچ ڈی اور حافظ قرآن ہیں۔
ادھر غرب اردن کے Â مختلف شہروں میں تلاشی کے دوران اسرائیلی فوج نے تیرہ مزید فلسطینیوں کو بھی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ الخلیل شہر میں بدھ کو علی الصباح اسرائیلی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران سابق اسیران سمیت متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
اسرائیلی فورسز نے الخلیل شہر میں مسجد الرباط کے قریب سے فلسطینی مذہبی رہنما الشیخ ماہر قفیشہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
