مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ اور صہیونی تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف یہودی دہشت گردی ایک بار پھر سراٹھانے لگی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ میں شائع ہونے والے ’الیکس فیشمن‘ کے مضمون میں فاضل تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی غنڈہ گردی اور دہشت گردی کے 8 واقعات درج کیے گئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صہیونی ریاست کےقانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے صہیونی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس کوشش نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
صہیونی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ یہودی شدت پسندوں کی جانب سے فلسطینی شہریوں کی جان ومال پرحملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آئے روز صہیونی شر پسند فلسطینیوں کی املاک کی توڑپھوڑ، دیواروں پر نازیبا اور اشتعال انگیز نعروں کی چاکنگ، گاڑیوں پر سنگ باری اور ان کے شیشے توڑے جانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فیشمن کا کہنا ہے کہ صہیونی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی املاک پر حملوں کے دسیوں واقعات سامنے آئے ہیں۔ صہیونی آباد کاروں کی تخریب کاری کے بڑھتے واقعات سے فلسطینی آبادی میں سخت خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
فیشمن کا کہنا تھا کہ اندرون فلسطین گذشتہ دو سال سے Â شرپسند یہودیوں کی تخریبی کارروائیوں میں غیرمعمولی کمی آئی تھی اور تخریب کار گروپ قریبا پس منظر میں چلے گئے تھے مگر حال ہی میں اندرون فلسطین میں یہودیوں کی تخریبی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی املاک پر حملوں میں اضافہ رواں سال ’عمونا‘ نامی صہیونی کالونی کو خالی کیے جانے کے واقعے کے بعد دیکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ دو سال قبل فلسطین کے غرب اردن کے علاقے نابلس میں صہیونی دہشت گردوں نے ایک فلسطینی خاندان کو زندہ جلا دیا تھا جس کے نتیجے میں میاں بیوی اوران کا زندہ جل کر شہید اور ایک بچہ بری طرح جھلس گیا تھا۔
