مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) کل جمعرات کے روز انتہا پسند یہودیوں کی بڑی تعداد دن بھر فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کرتے رہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس کے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ Â جمعرات کو صبح سے رات گئے تک یہودی آباد کاروں کی ٹولیاں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتی رہیں۔ یہودی آباد کاروں نے مسجد میں گھس کرنہ صرف اشتعال انگیز نعرے لگائے بلکہ تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات بھی ادا کرتے رہے۔ اس موقع پر فلسطینی شہریوں کو نماز کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ تقریبا98 یہودی اشرار نے گذشتہ روز قبلہ اوّل کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے گروپ میں 63 یہودی آباد کاروں نے قبلہ اوّل کی بے حرمتی کی ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس کی سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے دسیوں یہودی اندر داخل ہوئے اور گھنٹوں قبلہ اوّل میں گھومتے رہے۔ صہیونی پولیس اہلکار انتہا پسندوں کو مراکشی دروازے کے راستے قبلہ اوّل میں داخل کرتے اور باب السلسلہ سے باہر نکالتے رہے۔
"قدس پریس” کے مطابق یہودی آبا دکاروں نے "باب الرحمہ” کے قریب تلمودی تعلیمات کے مطابق نماز بھی ادا کی۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس نے یہودیوں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کر رکھی تھی۔
قدس پریس کے مطابق بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات سے دن دس بجے تک یہودیوں کا تانتا بندھا رہا۔ اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے یہودی انتہا پسند قبلہ اوّل میں داخل ہوتے اور مذہبی رسوامات کی ادائیگی کی آڑ میں گھنٹوں قبلہ اوّل میں گھومتے رہے۔ یہودی آباد کاروں کی آمد پر مسجد میں موجود فلسطینی مرابطین نے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی تاہم اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کے قبلہ اوّل میں داخلے پرپابندی عائد کردی گئی تھی۔
