فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی انسانی حقوق گروپ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ برس مجموعی طور پر صہیونی کالونیوں سے باہر 1263 رہائشی مکانات تعمیر کیے گئے۔اگر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو اسرائیل کو صہیونی کالونیوں سے باہر کی گئی تعمیرات پہلی فرصت میں روکنا ہوں گی۔
’السلام آلان‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2015ء کی نسبت 2016ء میں یہودی توسیع پسندی میں 34 فی صد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطین میں صہیونی آباد کاری کی سرگرمیاں بڑی صہیونی کالونیوں سے باہر جاری رہیں۔ رہائشی مکانات، پبلک عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی تعمیر کی آڑ میں فلسطینی اراضی قبضے میں لی گئی۔ اس کے علاوہ صہیونی کالونیوں سے باہر فلسطینی اراضی قبضے میں لینے کے بعد ان پر دو صہیونی کالونیاں بنائی گئیں۔ اسرائیلی حکومت نے دعویٰ کیا کہ کالونیوں کے لیے استعمال کی جانے والی اراضی Â اسرائیل کی ریاستی ملکیت ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں کی گئی تعمیراتی سرگرمیاں غیرقانونی ہیں مگر صہیونی ریاست کی طرف سے یہ تسلیم کیا گیا کہ گذشتہ برس 10 فی صد غیرقانونی تعمیرات کی گئیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ فلسطین میں صہیونی آباد کاری کا تسلسل تنازع فلسطین کے حل اور دو مملکتی منصوبے کو عملی شکل دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ گذشتہ برس مجموعی طور پر اسرائیل نے 1814 غیرقانونی مکانات تعمیر کیے۔ سال 2015ء میں غیرقانونی طور پرتعمیر کردہ مکانات کی تعداد 1350 تھی۔
سال 2015ء میں 26 فی صد مکانات صہیونی کالونیوں سےباہر تعمیر کیے گئے جن کی کل تعداد 474 تھی۔ دیوار فاصل کے مشرق کی سمت سڑک کے کنارے 114 مکانات تعمیر کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق 94 فی صد مکانات[1700] مستقل طور پربنائے گئے جب کہ 6 فی صد یعنی 114 مکانات ایک سے دوسری جگہ منتقل کیے جاسکیں گے۔
