مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے سرکردہ مذہبی رہنما اور اسلامی تحریک کے امیر الشیخ رائد صلاح نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل جعلی الزامات اور حیلوں بہانوں سے اسلامی تحریک کو ختم کرنے کی سازش کررہا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اپنے ایک بیان میں الشیخ رائد صلاح نے کہا کہ صہیونی ریاست اسلامی تحریک کو قبلہ اوّل سے محبت کی سزا دے رہی ہے۔ قابض صہیونی دشمن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلامی تحریک کو دبا کراس کی سرگرمیوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ صہیونی ریاست کی طرف سے اسلامی تحریک کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف جعلی اور من گھڑت الزامات عائد کیے ہیں اور ان من گھڑت الزامات کے تحت جماعت کے چار کارکنان کے خلاف فرد جرم عائد کی ہے۔ ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ سے ’عشق‘ کرتے ہیں اور اس کے دفاع کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل قبلہ اوّل کے عشاق کے خلاف سازشوں اورانتقامی کارروائیوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ صہیونی ریاست قبلہ اوّل کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور مرابطین کو جتنا دبائے گا فلسطینی قوم میں دفاع قبلہ اوّل کے لیے جذبہ اتنا ہی تیز ہوگا۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے’شاباک‘ نے منگل کے روز اسلامی تحریک کے چار کارکنان کو حراست میں لیا تھا جن پر نومبر 2015ء کو اسلامی تحریک پرعائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
صہیونی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی تحریک کے کارکنان اسرائیلی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں اور اسرائیلی تنصیبات اور سیکیورٹی اداروں پرحملوں میں ملوث ہیں۔
شیخ رائد صلاح نے اسرائیلی خفیہ ادارے کے الزامات مسترد کردیے ہیں اور کہا ہے کہ جماعت کے گرفتار کارکنان صرف مسجد اقصیٰ کے دفاع اور تحفظ میں سرگرم ہیں۔
قبل ازیں صہیونی پولیس نے اسلامی تحریک کے 20 رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ گرفتار فلسطینی کالعدم اسلامی تحریک کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اسرائیلی پابندیوں کے باوجود وہ جماعت کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
