رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی فلسطینی اراضی کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ نے بیت لحم کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی صدر نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔رام اللہ میں اپنے جرمن ہم منصب فرینک والٹر شٹائنمائرکے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں محمود عباس کا کہنا تھا کہ ” میں نے جرمن صدر کو ان تمام کوششوں سے آگاہ کر دیا ہے جو ہم فلسطینی قوم کی آزادی اور خود مختاری کے واسطے کر رہے ہیں۔ بالخصوص گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات جنہوں نے ہماری دعوت قبول کر لی اور اب ہم بیت لحم میں جلد ہی ان سے ملاقات کے لیے پر امید ہیں”۔
امریکی صدر نے فلسطینی اراضی کے دورے کی خبر کی تصدیق نہیں کی تاہم انہوں نے 4 مئی کو اعلان کیا تھا کہ وہ رواں ماہ اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
اسرائیل کا دورہ اُس سفر کی ایک کڑی ہوگا جس کے دوران ٹرمپ 25 مئی کو برسلز میں نیٹو اتحاد اور 26 مئی کو سِسلی (اٹلی) میں بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی- سیون کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ محمود عباس اور نیتن یاہو کے درمیان آخری اور اہم ملاقات 2010 میں ہوئی تھی۔ اگرچہ اس کے بعد خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں غیر مصدقہ رپورٹیں بھی ہیں۔
فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کوششیں اپریل 2014 میں امریکی منصوبے کی ناکامی کے بعد سے مکمل طور پر موقوف ہیں۔
