الخلیل – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج اور پولیس کی جانب سے فلسطین کے مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کی تاریخی جامع مسجد الابراہیمی میں فلسطینی شہریوں کی نمازوں کی ادائیگی اور آذان پرپابندیوں کا ناروا اور غیرقانونی سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق Â اپریل 2017 کے دوران مسجد ابراہیمی میں 65 بار آذان دینے سے روکا گیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الخلیل شہر کے محکمہ اوقاف ومذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مسجد ابراہیمی میں آذان اور نماز پرصہیونی پابندیوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ صہیونی انتظامیہ کی بے جا مداخلت کے نتیجے میں اپریل میں مسجد ابراہیمی کی فضاء 65 بار آذان کی نعمت سے محروم رہی۔بیان میں آذان اور نماز پر پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسجد ابراہیمی اور مسجد اقصیٰ پریہودیوں کا ملکیت کا دعویٰ باطل اور جھوٹ پرمبنی ہے اور صہیونی قوتیں ان دونوں مقدس مقامات کے حوالے سے دنیا کو گمراہ اور تاریخ کومسخ کررہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد ابراہیمی میں آذانوں اور نمازوں کی ادائیگی پرپابندی مذہبی آزادیوں پر حملے کے مترادف ہے اور صہیونی یہ غیرقانونی کارروائیاں روز مرہ کی بنیاد پر کررہے ہیں۔ اگست کے دوران صہیونی حکام کی جانب سے مسجد ابراہیمی میں اکاون آذان دینے پر پابندی لگائی اور دعویٰ یہ کیا گیا کہ اذان دینے سے یہودیوں کے سکون میں خلل پیدا ہوتا ہے۔
