مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی آباد کاری پر عارضی طورپر عائد پابندیاں ختم ہونے کے بعد شہر میں صہیونی آباد کاری کا ایک نیا طوفان آنے والا ہے اور اس ممکنہ طوفان کے بارے میں صہیونی حکومت نے امریکا کو بھی آگاہ کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی زبان میں شائع ہونے والے جریدہ ’یروشلم‘ کے مطابق تل ابیب نے واشنگٹن کو مطلع کیا ہے کہ اس نے غرب اردن اور بیت المقدس میں صہیونی آباد کاری پرعارضی طور پرعائد پابندی ختم کردی ہے جس کے بعد التواء کا شکار تمام تعمیراتی منصوبوں پر کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکومت بیت المقدس میں ’بیتار عیلیت‘ صہیونی کالونی میں 600 گھروں کی تعمیر کا کام جلد شروع کرے گی جب کہ ’گیلو‘ کالونی میں 113 مکانات کی تعمیر کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
عبرانی جریدے کا کہنا ہے کہ فلسطین میں صہیونی آباد کاری کا یہ نیا طوفان ایک ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب آئندہ ماہ Â امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایک ماہ قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے امریکی دورے کے دوران ٹرمپ سے ملاقات بھی کی تھی۔ ذرائع کے مطابق نیتن یاھو حکومت کی طرف سے ٹرمپ انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں تعمیرات پر پابندیاں ختم کردی گئی ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے ذرائع کے مطابق حکومت بسغات زئیفم راموت ،گیو، النبی یعقوب، رمات شلومو اور ھار حوماہ وغیرہ میں ترجیحی بنیادوں پر مکانات کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
