رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں اسرائیلی فوج کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جاری کردہ اقوام متحدہ کی پندرہ روزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے دوران ایک فلسطینی شہری شہید،46 زخمی اور 20 مکانات مسمار کیے گئے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 مارچ کو زخمی ہونے والا 17 سالہ فلسطینی نوجوان جاسم نخلہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔ یہ دو ہفتوں کے دوران شہید ہونے والا فلسطینی نوجوان ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق ’اوچا‘ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 4 سے18 اپریل کے درمیانی عرصے میں اسرائیلی فوج کی پرتشدد کارروائیوں میں 11 بچوں سمیت 46 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ شہری غرب اردن کے شہر قلقیلیہ، کفر قدم اور رام اللہ کے نواحی علاقوں میں ہفتہ وار احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے دوران اس وقت زخمی ہوئے جب قابض فوج نے ان پر طاقت کا اندھا دھند استعمال شروع کردیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مقامی کسانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے دو ہفتوں میں 26مرتبہ ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فلسطینی کسانوں کو کاشت کاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کےدوران قابض صہیونی انتظامیہ نے غیر قانونی قرار دے کر فلسطینیوں کے 20 مکانات مسمار کئے جس کے نتیجے میں دسیوں افراد جن میں بیشتر بچے اور خواتین شامل ہیں مکان کی چھت سے محروم ہوگئے۔
مسمار کیے گئے12 مکانات مشرقی بیت المقدس میں قائم تھے۔ آٹھ مکانات غرب اردن کے سیکٹر C میں مسمار کیے گئے جس کے نتیجئے میں 56 فلسطینی بے گھر اور 333 بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
اس دوران اسرائیلی فوج نے متفرق مقامات پر فلسطینیوں کے باغات پرحملے کرکے 200 پھل دار درخت تلف کیے۔ اس دوران صہیونی آباد کاروں کی غنڈہ گردی بھی اپنے عروج پر رہی۔ صہیونی شرپسندوں نے الخلیل شہر میں 14 سالہ لڑکی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئی۔ مشرقی بیت المقدس میں صہیونی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے 215 قیمتی درخت اکھاڑ پھینکے جن میں زیادہ زیتون کے پھل دار پودے شامل ہیں۔
