فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کےایک ذمہ دار ذریعے نے غیرملکی خبر رساں اداروں کو بتایا کہ صدر محمود عباس نے ارکان پارلیمنٹ کو حاصل آئینی اور پارلیمانی تحفظ ختم کردیا ہے جس کے بعد پانچ ارکان کے خلاف ٹرائل کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس نے یہ اقدام اس لیے کیا ہے تاکہ فلسطینی اتھارٹی پر تنقید کرنے والے ارکان کا ٹرائل کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ وہ اس اقدام سے منی لانڈرنگ، اسلحہ کی تجارت اور گالم گلوچ جیسے اخلاقی الزامات کا سامنا کرنے والے ارکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی کوشش کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر کے موجودہ اقدام کا پہلا ہدف پانچ ارکان پارلیمنٹ بن سکتے ہیں۔ ان میں شامی الشامی، نجاۃ ابو بکر، ناصر جمعہ، جمال الطیراوی اور فتح کے مںحرف رہنما محمد دحلان شامل ہیں۔
ادھر فلسطینی پارلیمنٹ کے ایک ذمہ دار ذریعے نے فلسطینی صدر کی طرف سے پارلیمانی تحفظ ختم کرنے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ پارلیمانی ذریعے کا کہنا ہے کہ صدر عباس نے ایک غیر پارلیمانی اقدام کرتے ہوئے اپنی آمرانہ پالیسی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس نام نہاد اقدامات اور صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مخالف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو انتقام کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا ہدف پارٹی کے مںحرف رہنما محمد دحلان اور دیگر ارکان پارلیمان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
