جنین – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست کی ظالمانہ پالیسی کے تحت پابند سلاسل ایک فلسطینی نوجوان نے اپنی قید میں تجدید کے فیصلے کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیر عمار ابراہیم شلشل حمور کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین سے ہے۔27 سالہ شلش کو صہیونی فوج نے 16 فروری کو حراست میں لیا تھا جس کے بعد اسے چھ ماہ کے لیے انتظامی قید کی سزا دی گئی تھی۔ گذشتہ روز اس کی انتظامی حراست ختم ہونے پر اسے مزید چھ ماہ کے لیے پابند سلاسل کردیا گیا۔ اس پر بہ طور احتجاج فلسطینی شہری نے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔خیال رہے کہ اسرائیلی زندانوں میں قید دو فلسطینی انس شدید اور ابو فارہ دو ماہ سے زائد عرصے سے انتظامی حراست کے خلاف مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی حکومت کی طرف سے نہتے اور بے قصور فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی ظالمانہ پالیسی کے تحت پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کی گئی تنقید کے باجود صہیونی ریاست کی جیلوں میں ساڑھے سات سو کے قریب فلسطینی انتظامی حراست کے تحت قید ہیں۔
