• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

صہیونی ثقافتی دہشت گردی،300 مقامات کے نام تبدیل

بدھ 23-11-2016
in عالمی خبریں
0
0Pala5116
0
SHARES
2
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی حکومت اور اس کے تمام ریاستی ادارے جہاں ایک طرف مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا طوفان برپا کیے ہوئے ہیں اور مقامی فلسطینی آبادی پرعرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے وہیں قابض صہیونی انتظامیہ بیت المقدس کے اندر شاہراؤں اور دیگر اہم مقامات کے عربی اور اسلامی ناموں کو بدل کرانہیں یہودیت اور عبرانیت کا لبادہ اڑھانے کے مذموم پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ بیت المقدس کے تاریخی مقامات اور اہم جگہوں کے عبرانی نام رکھنے کی مذموم سازش کے پس پردہ بیت المقدس کی تاریخی، اسلامی اور عرب شناخت مٹانا اور القدس پر یہودیت کی چھاپ قائم کرنا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی ریاست کی طرف سے بیت المقدس میں سڑکوں اور دیگر مقامات کے عبرانی ناموں کی تشہیر ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے القدس کی مساجد میں نماز اور اذان پر بھی پابندیوں کی سازشیں شروع کررکھی ہیں۔ حال ہی میں منظور کردہ ایک متنازع قانون کی آڑ میں بیت المقدس اور شمالی فلسطین کی کوئی 400 مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

فلسطینی قومی کمیٹی برائے سائنس وثقافت کے سیکرٹری جنرل مراد السودانی نے خبردار کیا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ نے ایک عرصے سے شہر کی تمام شاہراؤں کو عبرانی ناموں سے موسوم کرنے کی مذموم مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس میں اہم جگہوں کے عربی اور اسلامی ناموں کے بنائے ان کے عبرانی نام مشہور کررہی ہے۔ اس گھناؤنی سازش کا واحد اور سب سے اہم مقصد شہر مقدس کی اسلامی تاریخ اور عرب ثقافت و شناخت مٹا کر شہر پر یہودیت اور عبرانیت کی چھاپ کو گہرا کرنا ہے۔

فلسطینی قومی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کی طرف سے بیت المقدس اور شمالی فلسطین کی 400 مساجد میں اذان پر پابندی کی سازش کی تیار کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس میں 300 شاہراؤں اور دیگر اہم مقامات کو یہودیانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ان جگہوں کے عبرانی نام مشہور کیے جا رہے ہیں۔ شہر کے اندر واقع عربی ناموں کے بورڈ ہٹا کر ان کی جگہ عبرانیت مسلط کرنے کی مذموم پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔

السودانی کا کہنا ہے کہ صہیونی انتظامیہ بیت المقدس میں تاریخی مقامات اور شاہراؤں کے عبرانی ناموں کے لیے نام نہاد تلمودی تعلیمات اور تورات کی تعلیمات کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بیت المقدس میں مختلف مقامات کے نام ان کی مذمبی کتب میں موجود ہیں۔

فلسطینی قومی کمیٹی کے عہدیدار کا کہناہے کہ بیت المقدس میں جگہوں کے عبرانی نام رکھنا بیت المقدس سے متعلق عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اسرائیل کی ثقافتی دہشت گردی ہے جس کا نشانہ ایک عرصے سے بیت المقدس شہر دیگر مقامات ہیں۔ جب سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر صہیونیوں کے دعوے کو باطل قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اس کے بعد صہیونی انتظامیہ کی طرف سے بیت المقدس میں عبرانیت کے پھیلاؤ کی مہم بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ 

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixneblusobamapalestineparisramallahThirdIntifadaUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombieصہیونی ثقافتی دہشت گردی،300 مقامات کے نام تبدیل
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.