فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اللد شہر میں قائم ایک مسجد کے موذن کو کیے گئے جرمانہ کے واقعے کو غیرمعمولی کوریج دی گئی ہے۔
اگرچہ مذکورہ متنازع قانون ابھی تک پارلیمنٹ میں زیربحث ہے اور اسے منظور نہیں کیا گیا مگر اس کی منظوری سے قبل ہی اس پرعمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔ اسرائیل کے عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اللد شہر کی اسرائیلی بلدیہ نے شنیر کالونی کی جامع مسجد کے موذن الشیخ محمود الفار کو جرمانہ گذشتہ روز نہیں بلکہ گذشتہ جمعرات کی آذان فجر کے موقع پر کیا تھا۔ انہوں نے فجر کی آذان لاؤڈ اسپیکر پر دی تھی جس کے بعد انہیں بلدیہ کے دفتر میں طلب کرکے جرمانہ ادا کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا۔
عبرانی اخبار کی ویب سائیٹ پر پوسٹ خبر میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مسجد کے موذن الشیخ محمود الفار کو دیے گئے جرمانے کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آذان سے یہودی آباد کاروں کے آرام وسکون میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ چونکہ آرام و سکون میں خلل کے انسداد کے لیے پارلیمنٹ نے کئی سال قبل بھی ایک قانون منظور کر رکھا ہے۔ اس لیے اس قانون کے تحت مسجد میں بلند آہنگ آذان دینے پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔
ادھر اسرائیلی ریڈیو نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس آذان پر پابندی سے متعلق متنازع قانون میں ترمیم پر غور کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک تجویز یہ بھی دی گئی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر آذان رات 23 بجے سے صبح 7 بجے تک دی جاسکتی ہے۔ دن کے بقیہ اوقات میں لاؤڈ اسپیکر پر آذان دینے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت آذان پر پابندی سے متعلق قانون میں زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے تاکہ اعلیٰ عدالت سے اس قانون کومسترد نہ کیا جاسکے۔
