مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت نے ایک مقامی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس کے بیت حنینا قصبے میں قائم فلسطینیوں کے 14 مکانات کی فوری مسماری کا حکم صادر کرے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے مشیر قانون نے ایک مقامی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بیت حنینا میں فلسطینیوں نے کئی مکانات غیرقانونی طور پرتعمیر کیے ہیں۔ عدالت ان مکانات کی مسماری کا حکم صادر کرے تاکہ انہیں جلد از جلد مسمار کیا جاسکے۔اسرائیل کے سرکاری ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی بلدیہ بیت حنینا میں 14 مکانات فوری طور پر مسمار کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے بلدیہ کی طرف سے عدال میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ ریڈیو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے ان چودہ مکانات میں 40 فلسطینی خاندان رہائش پذیر ہیں۔ مکانات مسماری کی صورت میں یہ تمام فلسطینی بے گھر ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے Â رام اللہ کے قریب واقع ’’عمونا‘‘ نامی یہودی کالونی کو مسمار کیے جانے کے فیصلے کے بعد فلسطینیوں کے مکانات مسماری کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پہلے عمونا کالونی کے انخلاء کا مسئلہ حل ہوجائے ، اس کےبعد بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات مسماری کا نوٹس جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ رام اللہ میں قائم’عمونا‘ کالونی کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دے کرخالی کرنے کا حکم دے رکھا ہے مگراسرائیلی حکومت کالونی کو خالی کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے ایک نئے مسودہ قانون کی بھی منظوری دی ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی نجی اراضی پر قائم کی گئی یہودی کالونیوں کو بھی آئینی اور قانونی حیثیت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
