فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے کثیرا الاشاعت عبرانی روزنامہ ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کبھی اور کسی موقع پر فلسطین میں یہودی آباد کاری کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ ذاتی طور پر یہودی آباد کاری کے منصوبوں کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطین میں یہودی آباد کاری کے لیے کروڑوں ڈالر کی رقم اسرائیل کو فراہم کی ہے۔
عبرانی اخبار کے مطابق غزہ کی پٹی میں قائم کردہ ’’غوش قطیف‘‘ یہودی کالونی سے نکالے گئے یہودیوں کو فلسطین کے دوسرے علاقوں میں آباد کرنے کے لیے اسرائیل نے 10 ارب شیکل کا بجٹ تیار کیا۔ اس وقت کی اسرائیلی حکومت نے یہودی آباد کاری کے لیے دنیا بھر کےیہودیوں سے مدد کی اپیل کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہودی ارب پتی آفی شنٹسلر جو کہ ’’کیرن کیمٹ‘‘ کے چیئرمین بھی ہیں نے کہا تھا کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر یہودی آباد کاروں کے لیے نئی کالونیاں قائم کرنے کے لیے بھاری رقوم فراہم کی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1980ء میں جزیرہ نما سینا میں قائم کردہ یہودی کالونی Â سے یہودیوں کے انخلاء کے بعد ان کی آباد کاری کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھاری رقم فراہم کی تھی۔ اس رقم سے ’’بتحات شالوم‘‘ یہودی کالونی بنائی گئی۔ آج بھی اس کالونی کی تعمیر میں مدد کرنے والوں کے نام اس کی تختی پرموجود ہیں جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو مرکزی ڈونر قرار دیا گیا ہے۔
