فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزیر تعلیم نفتالی بینیت کی پولیس کو حکم دیا کہ وہ بیت المقدس کے ایک اسکول کی خاتون فلسطینی پرنسپل کو حراست مرکز میں طلب کر کے اس سے فیس بک پر فلسطینی شہداء کی تصاویر پوسٹ کرنے کے بارے میں تفتیش کریں۔ اس پر صہیونی فوجیوں نے بیت المقدس میں ایک ہائی اسکول کی پرنسپل کو حراست مرکز طلب کیا جہاں اس سے توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ صہیونی پولیس، فوج اور انٹیلی جنس حکام کی طرف سے فلسطینی خاتون اسکالر کا بیگ چھین لیا اور بیگ کی تلاشی لینے کے بعد اسے بھی نیم عریاں تلاشی دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔
صہیونی تفتیش کار فلسطینی خاتون سے بار بار استفسار کرتے رہے کہ اس نے شہید فلسطینی بچوں اور حال ہی میں بیت المقدس میں فدائی حملے میں شہید ہونے والے فلسطینی مصباح ابو صبیح کی تصویر فیس بک پر کیوں پوسٹ کی تھی۔ صہیونی پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ فلسطینی استانی نے اسکول کے بچوں کو اسرائیل کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔
