فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق منگل کو میکسیکو کی جانب سے دی گئی درخواست پر دوبارہ رائے شماری کی کوشش کی گئی تھی مگر اس موقع پر سابقہ قرارداد میں صرف ایک ووٹ کم ہوا۔
میکسیکو کی طرف سے اعتراض کیا گیا تھا کہ گذشتہ جمعرات کو مسجد اقصیٰ اور دیوار براق کے بارے میں کی گئی رائے شماری میں یہودیوں سے انصاف نہیں کیا گیا۔ اس لیے قرارداد پر دوبارہ رائے شماری کرائی جائے۔
حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت یونیسکو کے فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ یہ فیصلہ فلسطینی قوم اور پوری عرب اور مسلم امہ کی تاریخی فتح ہے۔
یونیسکو کے فیصلے میں صہیونی ریاست کے من گھڑت اور جھوٹ پرمبنی قبلہ اوّل پرملکیت کے دعوے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت الرشق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونیسکو کی طرف سے قبلہ اوّل کے بارے میں حتمی فیصلہ صادر کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور دیوار براق سمیت القدس کے تمام مقدس مقامات پرصرف فلسطینیوں اور عالم اسلام کا حق ہے۔ عزت الرشق نے بھی قبلہ اوّل کے حوالے سے یونیسکو کی قرارداد کو عالم اسلام کی تاریخی فتح قرار دیا ہے۔
