فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غرب اردن کے شمالی شہر جنین کے متعدد تاجروں اور دکانداروں نے شکایت کی وہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں داخلے کے لیے الجلمہ گذرگاہ پر پہنچے تو صہیونی حکام نے کہا کہ انہیں اندرون فلسطین داخلےکی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ ان کے کاروباری پرمٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ الجلمہ گذرگاہ پر جب انہوں نے اسرائیلی حکام کو اپنے پرمٹ دکھائے تو انہوں نے انتہائی ظالمانہ اور سفاکانہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے پرمٹ چھین کر پھاڑ ڈالے اور کہا وہ جعلی اجازت ناموں پر انہیں نقل وحرکت کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایک مقامی فلسطینی تاجر نے بتایا کہ وہ پرمٹ پر پہلے بھی متعدد بار شمالی فلسطین سے سودا سلف لاتے رہے ہیں مگر اس بار جب وہ الجلمہ گذرگاہ پر پہنچے تو صہیونی انتظامیہ نے ان سے ان کے اجازت نامے لینے کے بعد انہیں پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا کہ وہ جعلی اجازت نامے ہیں۔
