(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ سوموار کی شام بیت المقدس میں ایک اسرائیلی بس میں فدائی حملہ کرکے 21 یہودیوں کو زخمی کرنے والا فلسطینی نوجوان عبدالحمید ابو سرور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عبدالحمید ابو سرور بدھ کی شام اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا۔خیال رہے کہ گذشتہ سوموار کی شام بیت المقدس میں ایک اسرائیلی بس میں ہونے والے دھماکے میں کم سے کم اکیس یہودی زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیلی خفیہ اداروں نے زخمی ہونے والے فلسطینی عبدالحمید ابو سرور کو حملہ آور قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 19 سالہ ابو سرور کا تعلق مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے شمال میں واقع عایدہ کیمپ سے ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
ادھر اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ شہید فلسطینی عبدالحمید ابو سرور اس کا کارکن ہے جس نے بیت المقدس میں یہودیوں کی ایک بس میں فدائی حملہ کیاہے۔
