(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس میں جبل البابا کے مقام پر واقع مسجد کو شہید اور اسی کالونی میں فلسطینیوں کے گیارہ مکانات فوری طور پر مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’’جبل البابا‘‘ سوسائٹی کے مندوب عطاء اللہ مزارعہ نے بتایا کہ گذشتہ روز اسرائیل کی ایک مقامی عدالت نے مزارعہ اور جھالین خاندانوں کے ملکیتی گیارہ مکانات اور مقامی جامع مسجد ’’عبادہ بن صامت‘‘ کو شہید کرنے کا حکم دیا۔رپورٹ کے مطابق اگر فلسطینیوں کے گیارہ مکانات مسمار کردیے جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد بے گھر ہونے کا اندیشہ ہے۔ مجموعی طورپر یہ گیارہ مکانات 880 مربع میٹر کے رقبے پرتعمیر کیے گئے ہیں۔ صہیونی حکام کی جانب س 150 مربع میٹر رقبے پربنائی گئی مسجد کو شہید کرنے کا بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
مقامی فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ صہیونی حکام کی جانب سے فروری میں جبل البابا سوسائٹی میں مکانا مسماری کے بارہ نوٹس جاری کیے گئے تھے تاہم فلسطینی شہریوں کی جانب سے انہدامی نوٹس مسترد کردیے تھے۔
