(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کابینہ کے شام کے مقبوضہ وادی گولان میں منعقد ہونے والے حالیہ متنازع اجلاس کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر وہاں جنگی مشقیں شروع کردی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنگی مشقیں وادی اردن میں بھی جاری ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وادی اردن اور وادی گولان میں اسرائیلی فوج کی جنگی مشقیں اگلے سات دن تک جاری ہیں گی جس میں بھاری، درمیانے اور ہلکے ہتھیاروں کے استعمال کے تجربات کیے جائیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وادی اردن اور گولان کی پہاڑیوں میں جاری مشقوں کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوج کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے چند ہفتے قبل بھی وادی گولان میں جنگی مشقیں کی تھیں۔ یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے انتہائی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ وادی گولان میں اپنی کابینہ کا اجلاس منعقد کیا اور ساتھ ہی اس موقع پر اعلان کیا کہ وادی گولان اسرائیل کا اٹوٹ انگ ہے۔ اسے کسی صورت میں شام کو واپس نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ وادی گولان پر اسرائیل نے سنہ 1967 ء کی جنگ میں غاصبانہ قبضہ کرلیا تھا۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اسرائیل کے اس قبضے کو متنازع قرار دے کراس کے حل پرزور دیتی رہی ہے۔
