(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) عالم اسلام کے نمائندہ ممتاز علماء پر مشتمل بین الاقوامی علماء کونسل نے ترکی میں آج جمعرات کو منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے شرکاء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات کے فوری حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
رپورٹ کے مطابق علماء کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم ’’اسلامی تعاون تنظیم‘‘ پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم امہ فلسطین، کشمیر، عراق، شام، مصر،لیبیا، یمن، صومالیہ، بنگلادیش، میانماراور دنیا میں موجود مسلمان اقلیتیوں کے مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عالم اسلام کے بڑے مسائل بالخصوص کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات کے حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ مسلم ممالک کی قیادت میں پایا جانے والا انتشار ہے۔ جب کہ عالمی سطح کے تنازعات کے حل کے لیے مسلم امہ کی یکجہتی کی ضرورت ہے۔
عالمی علماء کونسل کا کہنا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے مگر بدقسمتی سے دنیا کی اس دوسری بڑی سپرپاور نے آج تک ان دونوں تنازعات کے حل کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین جیسے ایشوز کے حل کے لیے مسلمان ممالک کو اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنا ہوگی۔
علماء کونسل نے دنیا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جنگ کو تیز کرنے اور دہشت گردی کی وجوہات ختم کرنے پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلم دنیا کے مسائل کا حل نہ ہونا دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔
