دوسری جانب فلسطین کے سیاسی ، مذہبی اور عوامی حلقوں کی جانب سے فلسطینی حکام کی اسرائیلی فوجیوں سے درپردہ ملاقاتوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے فلسطینی اتھارٹی کا دوغلا پن قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ایک جانب اسرائیل کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات اور روابط کے بائیکاٹ کی اعلانیہ پالیسی پرعمل پیرا ہے مگر فلسطینی اتھارٹی کے نام نہاد سیکیورٹی اداروں کے اسرائیلی فوج کے ساتھ مکمل رابطے موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ شب ایک خفیہ مقام پر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی فوجی حکام کےدرمیان اہم ملاقات ہوئی۔ مشترکہ اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس چیف ماجد فرج، شہری امور کے چیئرمین حسین الشیخ، نیشنل ڈیفنس فورس کے سربراہ زیاد ھب الریح اور دیگر موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات مغربی کنارے کے کسی خفیہ مقام پر ہوئی ہےجس میں فلسطینی شہروں میں اسرائیلی فوج کے خلاف جاری تحریک مزاحمت کچلنے سمیت دوطرفہ سیکیورٹی تعاون بڑھانے جیسے امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ ملاقات کامیاب رہی ہے یا نہیں۔
خیال رہے فلسطینی اتھارٹی کےسیکیورٹی اداروں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان ملاقاتوں کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ب انکشاف کیاگیا تھا کہ پچھلے چند ماہ کے دوران فلسطینی اتھارٹی کی پولیس اور اسرائیلی حکام کے درمیان 58 خفیہ اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔
