رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الھام ابو ظاہر نے کہا کہ انہوں نے یہ مہم اس لیے شروع کی ہے کیونکہ غزہ میں کینسرکے امراض کے لیےکوئی خصوصی اسپتال نہیں ہے جس کے نتیجے میں مقامی شہریوں کو سخت نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں کینسر اسپتال کے قیام کے لیے ’’ہمیں یہ کام کرنا ہے‘‘ کے عنوان سے مہم شروع کی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم اس مہم کو کامیاب بنائیں گے کیونکہ اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی پابندیوں کے نتیجےمیں غزہ کی پٹی کے کینسر کے مریض فلسطین کے دوسرے علاقوں میں نہیں جاسکتے ہیں۔
فلسطینی شاعرہ کا کہنا تھا کہ گوکہ یہ بہت مشکل کام ہے مگرہماری کوششیں اس وقت تک جاری ہیں گی جب تک غزہ میں ایک کینسر اسپتال قائم نہیں ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کا کوئی مخیر شہری کینسر اسپتال کے لیے 5 دونم رقبہ عنایت کردے تو یہ کام اور آسان ہوجائے گا۔
