رپورٹ کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ دو ہفتے پیشتر صہیونی فوجیوں نے شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین میں قباطیہ کے مقام پر کریک ڈاؤن کے دوران 19 سالہ فلسطینی نوجوان محمد عویضات کی ٹانگ میں گولی مارنے کے بعد اسے زخمی حالت میں حراست میں لے لیاتھا۔
دو ہفتے گذر جانے کے باوجود عویضات کی زخمی ٹانگ کا طبی معائنہ نہیں کرایاگیا اور نہ ہی مریض کو کسی قسم کی دوائی مہیا کی گئی ہے
کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ زخمی فلسطینی نوجوان کی ٹانگ کا زخم بری طرح خراب ہو رہا ہے اور اس سے بدبو پھیل رہی ہے۔ تعفن کے باعث زخمی کے قریب نہیں جایا جاسکتا مگر صہیونی جیل انتظامیہ مسلسل لاپرواہی اور دانستہ غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
فلسطینی انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ’حوارہ‘ نامی حراستی مرکز میں قید 28 مریضوں نے علاج کی سہولت نہ ملنے پربھوک ہڑتال کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عویضات کو بھی حوارہ حراستی مرکز منتقل کیا گیا جہاں پہلے ہی کئی مریض صہیونی انتظامیہ کی لاپرواہی کا رونا رو رہے ہیں۔
