(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) قومی بیورو برائے دفاع زمین اور آبادکاری کے خلاف مزاحمت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام حالیہ دنوں کے دوران ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کی املاک کو مسمار کرنے کی پالیسی میں تیزی لے آئے ہیں۔
رپورٹ مِں بتایا گیا ہے کہ اسرئیلی حکام نے پچھلے ایک ہفتے کے دوران نابلس کے جنوب مشرق میں واقع تانا کے علاقے میں 40 املاک اور اطالوی تنظیم کی جانب سے تعمیر کردہ ایک اسکول کو بھی بغیر لائسنس تعمیر کے الزام میں مسمار کردیا ہے۔ان انہدامی کارروائیوں میں سے اکثر ‘ایریا سی’ میں کی گئی ہیں جو کہ اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل کے زیر انتظام ہے۔ ایریا سی کے رہائیشیوں کو ایک منظم سازش کا سامنا ہے جس کے ذریعے انہیں بے گھر کر کے ان کی زمینوں پر آبادکاری کے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ وادی اردن میں اسرائیلی فوج پچھلے سال کے دوران 600 دونم [تقریبا 148 ایکڑ] فلسطینی زمین پر قبضہ کر لیا تھا تاکہ اس پر یہودی بستیوں کی تعمیر کی جاسکے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل نے چار یہودی بستیوں میں توسیع کرتے ہوئے 1000 ہائوسنگ یونٹس کی تعمیر شروع کردی ہے۔ جبکہ مغربی کنارے کی کئی دیگر یہودی بستیوں میں بھی توسیع کا کام جاری ہے۔
