(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل مجسٹریٹ عدالت کے حکم پر ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکے ابراہیم خالد جبریل مناصرہ کو پانچ ماہ قید کے بعد جیل سے رہا کردیا گیا۔ المناصرہ کا رہاہشی تعلق بیت المقدس کے حنینیا قصبے سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابراہیم مناصرہ کو مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے صہیونی پولیس کے عائد کردہ الزمات میں باعزت بری کرتے ہوئے رہا کیا گیا۔خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے محمد ابراہیم مناصرہ کو 12 اکتوبر 2015 ءکو حراست میں لیا تھا۔ اس پر اسرائیلی فوجیوں سے اسلحہ لوٹنے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم اسرائیلی پولیس مناصرہ پر فوجیوں سے اسلحہ چھیننے کا الزام ثابت نہ کرسکی جس کے بعد بیت المقدس کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے اس کی فوری رہائی کاحکم دیا ہے۔ گرفتاری کے وقت قابض فوجیوں اور پولیس نے مناصرہ کے گھرمیں گھس کر توڑپھوڑ کی تھی اور اس کے زیراستعمال کمپیوٹر اور موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا تھا۔
قابض فوجیوں نے نہ صرف مناصرہ کے گھرچھاپہ مارا بلکہ شبے بنیاد پر اس کےشہید بھائی حسن اور چچا زاد کے گھروں پربھی چھاپے مارے تھے مگرانہیں کہیں سے بھی لوٹا گیا اسلحہ نہیں مل سکا۔
