رپورٹ کے مطابق دیما الواوی کو گذشتہ روز اسرائیل کی عوفر نامی فوجی عدالت نے ساڑھے چار ماہ قید با مشقت اورآٹھ ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی۔ اس موقع پر دیما الواوی بھی موجود تھی مگر اسے اپنے حق میں کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قبل ازیں اسرائیل کے فوجی پراسیکیوٹر نے دیما کو ساڑھے چار ماہ قید اور 25 ہزار شیکل جرمانہ کی سزا کی سفارش کی تھی تاہم عدالت نے جرمانہ کی سزا کم کرکے آٹھ ہزار شیکل کی ہے۔
خیال رہے کہ دیما اسماعیل الواوی کو اسرائیلی فوج نے شمالی الخلیل کے حلحول قصبے سے 9 فروری کو حراست میں لیا تھا۔ اس کے بعد بچی کے ساتھ اس کے والدین اور اہل خانہ میں سے کسی کا رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے کم سن بچی کو اپنے دفاع کے لیے وکیل تک رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور یک طرفہ طورپر اس پر مقدمہ چلا کر اسے ساڑھے چار ماہ قید اور جرمانہ کی سزا سنا دی گئی ہے
