عبرانی اخبارات میں شائع ہونے والے بیان میں مسٹر یعلون نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ مغربی کنارے پرقبضے کے لیے 80 فی صد کوششیں کرچکی ہے۔ محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کی کمزوریاں حماس جیسے گروپوں کو غرب اردن پراپنا سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کررہی ہیں۔
موشے یعلون نے الزام عائد کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے قطر سے لائی گئی گیس اسدود بندرگاہ سے غزہ کو منتقل کئے جانے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ صدر عباس کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کو دی گئی گیس اور تیل کا ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ اس لیے قطر سے لائی گئی گیس غزہ کو سپلائی نہیں کی جاسکتی۔
موشے یعلون نے کہا کہ اگر چہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں موجود نہیں لیکن اس کے باوجود فلسطینی پانی اور بجلی کی ضرورت کے لیے ہم[اسرائیل] پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ انہیں اسلحہ کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اور مصر کے راستے بھی اسلحہ کی اسمگلنگ میں سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔
