(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے 25 جنوری کو مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں حورون کے مقام پر شہید کیے گئے دو فلسطینی نوجوانوں کے جسد خاکی ان کے لواحقین کےحوالے کرنےکے اعلان کے بعد پھر انکار کردیا جس کے باعث لواحقین سخت مایوس ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے چا روز پیشتر مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں ’’حورون‘‘ یہودی کالونی ک قریب دو فلسطینی نوجوانوں 23 سالہ ابراہم علان اور حسین ابو غوش کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ان پر یہودی فوجیوں پر چاقو سے حملوں کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ شہید کیے جانے کے بعد دونوں شہداء کے جسد خاکی صہیونی فوج نے تحویل میں لے لیے تھے۔ گذشتہ روز صہیونی انتظامیہ کی جانب سے پہلے اعلان کیاگیا کہ دونوں شہداء کے جسد خاکی ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ لواحقین نے شہداء کی تجہیز تکفین کا انتظام کرنا شروع کیا انہیں بتایا گیا کہ فی الحال شہداء کے جسد خاکی انہیں نہیں دیے جاسکتے ہیں۔ہلال احمر فلسطین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے دونوں فلسطینی شہداء ابراہیم علان اور حسین ابو غوش کے جسد خاکی ان کےورثاء کے حوالے کرنے کا فیصلہ ملتوی کردیا ہے۔ فلسطینی طبی امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے انہیں یہ بتایا گیا کہ آیا شہداء کے جسد خاکی واپس کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود کیوں روکے گئے ہیں۔
