(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے بدھ کومقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی نوجوان کو اسرائیل کے خلاف سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال پھیلانے کے الزام میں ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت نے پرانے بیت المقدس کے رہائشی 25 سالہ محمود عبدالطیف کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ’’فیس بک‘‘ کے ذریعے صہیونی ریاست کے خلاف نوجوانوں کو حملوں پر اکسانے کے الزام میں 12 ماہ قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق محمود عبدالطیف بیت المقدس کے تیسرے شہری ہیں جنہیں رواں سال اسرائیل میں فیس بک کے اسرائیل مخالف استعمال کی پاداش میں قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے قبل صہیونی عدالت 30 سالہ ضرغام ابو سکران کو 11 ماہ اور عبدہ الطویل کو ایک سال قید کی سزا سنا چکی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فوج میں باضابطہ طورپر ’’سائبر‘‘ یونٹ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سائبر فوج فضائیہ، بری اور نیوی فوج کی طرح پورے اختیارات اور مراعات یافتہ ہوگی جو اسرائیل کے خلاف ہونے والی سائبر کارروائیوں کی روک تھام کرے گی۔
