(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی وزارت دفاع نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں میں قائم کردہ یہودی کالونیوں میں مزید 153 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے تاکہ وہاں پر مزید یہودیوں کو آباد کیا جاسکے۔
اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’’السلام الآن‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ غرب اردن میں اسرائیلی وزارت دفاع نے ڈیڑھ سال کے بعد یہودی آباد کاروں کے لیے نئی تعمیرات کی منظوری دی ہے۔رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے جن ڈیڑھ سو مکانوں کی تعمیر کی منطوری دی گئی ہے ان کے لیے شمالی سلفیت میں ’’ارئیل‘‘ یہودی کالونی اور بیت المقدس کے قریب غوش عتصیون کالونی کی جگہ کا تعین کیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ غرب اردن میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے پچھلے 18 ماہ سے مزید مکانات کی تعمیر کا سلسلہ بند کردیا تھا مگر تازہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست غرب اردن میں غیرقانونی تعمیرات کا عمل جارنے رکھنے پر مصر ہے۔
انسانی حقوق کی ترجمان کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر ایسے لگ رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو سخت گیر یہودی رہنماؤں اور یہودی آباد کاروں کے دباؤ میں آگئے ہیں۔ انہوں نے یہودی آباد کاروں کے دباؤ میں آکر توسیع پسندی کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے مگر وہ امریکا اور دوسرے ممالک کی طرف سے اس پر آنے والے ممکنہ رد عمل سے خایف نہیں ہیں۔
