رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز بیت المقدس کے شمال مشرق میں عناتا قصبے مین ایک فلسطینی بچی کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ یہودی کالونی کے داخلی گیٹ کے قریب قائم ایک پولیس چیک پوسٹ کے پاس سے گذر رہی تھی۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت نے بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک فلسطینی بچی کی شہادت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ شہیدہ کی شناخت رقیہ عبد محمد ابو عید کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 14 سال بیان کی جاتی ہے اور اس کا آبائی تعلق مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے ہے۔ تاہم اس کا خاندان پچھلے کچھ عرصے سے بیت المقدس کے عناتا قصبے میں رہائش پذیر ہے۔
اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری کا کہنا ہے کہ انہیں ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کی ایک یہودی کالونی کے داخلی دروازے کے قریب ایک فلسطینی لڑکی نے ایک سیکیورٹی اہلکار پر چاقو سے حملے کی کوشش کی تھی جس پر اسے گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں موقع پر ہی اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینی لڑکی کے چاقو سے حملے میں کسی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے تاہم فوجی اہلکار کی دوبارہ فائرنگ سے فلسطینی لڑکی جاں بحق ہوگئی۔
خیال رہے کہ فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے علاقوں میں پچھلے سال یکم اکتوبر کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ میں اب تک کم سے کم ایک سو ساٹھ فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے بیشتر فلسطینیوں کو شہید کرتے ہوئے ان پر چاقو سے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے مگر صہیونی فوج آج تک اس نوعیت کا کوئی دعویٰ درست ثابت نہیں کرسکی ہے۔
