(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں ایک فلسطینی قصبے کو جنگی مشقوں کے میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق القدس اسٹڈی سیںٹر کے شعبہ اسرائیلیات کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کے شمال مغربی قصبے بیت ریما میں سیکڑوں فوجی پچھلے دو روز سے جنگی مشقوں میں مصروف ہیں۔ وسیع پیمانے پر شروع کی گئی جنگی مشقوں کے دوران اسرائیلی فوج نے بیت ریما قصبے میں جگہ جگہ چھاپے مارے ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بیت ریما میں بڑی تعداد میں اسرائیل کے پیادہ فوجی اور، بکتر بند گاڑیاں اور عام فوجی جیپیں داخل ہوئی ہیں۔ صہیونی فوجیوں نے فلسطینی شہریوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے ہیں اور کئی مکانات کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا ہے۔
بدھ کے روز بیت ریما میں اسرائیلی فوج نے 30 مکانوں پر دھاوے بول کر ان کی تلاشی کی اور وہاں رہنے والے فلسطینی شہریوں کو زدو کوب کیا۔ گھروں میں موجود قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کے ساتھ ساتھ قیمتی سامان کی لوٹ ماربھی کی۔
مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ جنگی مشقوں کے دوران صہیونی فوج کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننے والا فلسطینی قصبے کے شہریوں ثلجی یعقوب الریماوی، زغلول الریماوی، محمود صادق، صقررشید الریماوی، سامح الریماوی، عصمت ، بھجت، حکمت الریماوی، فلسطینی اسیر اکرم صٓلح البرغوثی، افضل فلاح البرغوی، صافی العموری، نزار ، مجاھد قدورہ الریماوی، تمیم حسین الریماوی، حسن البرغوثی اور دوسرے شہروں کے گھروں پرچھاپے مارے گئے۔
