فلسطینی اتھارٹی نے امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم اور سائنس وثقافت "یونیسکو” میں "دیوار براق” کومسجد اقصیٰ کا حصہ قرار دینے سے متعلق عرب ممالک کی قرارداد سے دستبرداری کا اعلان کرکے قرارداد پر رائے شماری ناکام بنا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دستبرداری کے بعد بدھ کے روز یونیسکو میں دیوار براق کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر رائے شماری ملتوی کردی گئی ہے۔عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی ویب سائیٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ "یونیسکو” میں امریکا کے مندوب، اسرائیل کے مندوب کرمیل شاما ھکوھین اور صہیونی وزارت خارجہ کے دبائو کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد پر رائے شماری موخر کردی گئی تھی جس میں دیوار براق کو قبلہ اول کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
عبرانی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے میں ترمیم کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے مطالبے پر مسجد بلال بن رباح کو بھی تاریخی مقام قرا دیا گیا ہے۔ اسرائیل مسجد بلال بن رباح کو حضرت راحیل کا مزار قرار دیتا ہے۔ اسی طرح اس قرارداد میں حرم ابراہیمی کو بھی فلسطین کے تاریخی مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ مراکش، الجزائر، مصر کویت سمیت کئی دوسرے عرب ممالک کی جانب سے ایک مسودہ قرارداد پیش کیا گیا تھا جس میں مسجد اقصیٰ میں موجود تاریخی دیوار براق کو قبلہ اول کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ یہودی اسے "دیوار گریہ” کے طورپر ایک مقدس مقام قرار دیتے ہوئے مزعومہ ہیکل سلیمانی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
