مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پارلیمانی بلاک "اصلاح وتبدیلی” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ منگل کو غزہ کی پٹی میں پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 70 ارکان نے فلسطینی صدر محمود عباس کے اس مطالبے کی مخالفت کی جس میں انہوں نے تنظیم آزادی فلسطین کی تنظیم نو کے لیے اندرون اور بیرون ملک فلسطینی قیادت کا اجلاس بلائے جانے کی تجویز پیش کی ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی قانون ساز کونسل کے بیشتر ارکان نیشنل کونسل کے اجلاس کو قوم میں تقسیم کا نیا حربہ قرار دیتے ہوئے اس اجلاس میں شرکت کے بائیکاٹ کے حامی ہیں۔ ان کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس سے بھی پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قوم کو تقسیم کرنے کے اقدمات کے بجائے قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے فیصلے کریں۔
فلسطینی قانون ساز کونسل کے ارکان کی اکثریت کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ فلسطینی تنظیمیں حماس اور تحریک فتح سنہ 2005 ء میں طے پائے قاہرہ معاہدے یا اس کے بعد میثاق مکہ یا اعلان دوحہ میں طے کردہ نکات پرعمل درآمد کریں تاکہ قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے ایک ماہ قبل تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے کمیٹی کی تشکیل نو کے لیے فلسطین کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے بجائے اندرون ملک اور بیرون فلسطین موجود فلسطینی قیادت کا اجلاس بلا کر ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ اور اس کے ارکان کے چنائو کا اعلان کیا تھا۔ تاہم فلسطین کی نمائندہ تنظیموں، حماس، اسلامی جہاد، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور دیگر نے صدر عباس کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔
