مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے سرگرم فلسطینی قومی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یورپی یونین کے لکسمبرگ میں ہوئے اجلاس میں اسرائیل کی ان مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے جو سنہ 1967 ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی شہروں میں تیار کی جا رہی ہیں مگر یہ ناکافی اقدام ہے۔ عالمی قوانین کی رو سے اسرائیل کا ہرسطح پر بائیکاٹ ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے لکسمبرگ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی ممالک نے متفقہ طورپر اسرائیل کی متنازع مصنوعات کے بائیکاٹ کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کے تحت جلد ہی یورپی منڈیوں میں صہیونی ریاست کی متنازع قرار دی گئی مصنوعات پر”بائیکاٹ” کی مہر لگائی جائے گی۔
فلسطینی قومی بائیکاٹ کمیٹی کا کہنا ہےکہ یورپی ممالک کو چاہیے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ مکمل انصاف کا برتائو کریں اور اسرائیل کا ہرسطح پر بائیکاٹ کریں۔ کیونکہ صہیونی ریاست آئے روز فلسطینیوں کی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے بعض ممالک اسرائیل نوازی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس لیے انہیں شبہ ہے کہ ناجائز غاصب صہیونی ریاست کی متنازع مصنوعات کے بائیکاٹ میں بھی حیل حجت سے کام لیا جائے گا اور بعض حلقے بائیکاٹ کی اس مہم کو بھی غیرموثر کرنے کی کوشش کریں گے۔
