مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم نے غزہ کی پٹی میں بچوں کی معذوری سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق "اوچا” کے اعدادو شمار سے بھی استفادہ کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ وحشیانہ جنگ کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ بچے معذور ہوئے۔ ان میں سے 30 بچے ایسے ہیں جو اب دوسروں کے سہارے جینے پرمجبور ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج کی وحشیانہ بمباری سے 2220 فلسطینی شہید ہوئے۔ ان میں سے 1492 عام شہری تھے۔ جنگ کے نتیجے میں 3374 عام شہری معذور ہوئے جن میں 1000 بچے شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے باعث غزہ کی پٹی میں معذور ہونے والے بچوں میں زیادہ تر جسمانی معذور ہیں۔ تاہم ایک خاطر خواہ تعداد ان بچوں کی بھی ہے جو ذہنی اور نفسیاتی معذوری کا شکار ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں معذور ہونے والے بعض بچوں کو بہ طورپر گواہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان ہی میں رفح شہر کا ابراہیم ابو شباب بھی شامل ہے۔ ابو شباب پچھلے سال اسکول میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ اسرائیلی فوج کی بمباری سے اس کی ریڑھ کی ہڈی متاٖثر ہوئی، ایک جبڑا اور دائیں ٹانگ کٹ چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوچکا ہے۔
معذور بچے کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں ایک اسپتال میں اپنے زخمی بچے کا علاج کرایا۔ جہاں سرجری کے ذریعے اس کے جسم سے بموں کے چھرے تو نکال دیے گئے ہیں مگر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معذور ہوچکا ہے۔ اسے ایک سال کےبعد اب دوبارہ وہیل چیئر پر اسکول لے جایا جاتا ہے۔
