مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں متعین اسرائیلی فوج کے کرنل اورین زینی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں نے اسرائیل مخالف انفرادی نوعیت کی کارروائیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے”۔
انہوں نے تسلیم کیاکہ فلسطینی شہریوں کی انفرادی نوعیت کی کارروائیوں کو روکنا مشکل ہورہاہے اور فوج فلسطینیوں کو قاتلانہ حملوں سے نہیں روک سکتی ہے۔
کرنل زینی کا کہنا تھا کہ بیشتر فلسطینی شہری پرسکون زندگی گذارنا چاہتے ہیں لیکن ان کے درمیان ایسے عناصر موجود ہیں جنہوں نے اسرائیلی فوج کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے پچھلے دو سال میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے فوج پر 14 بڑے حملے ناکام بنائے ہیں۔ اگر وہ حملے ناکام نہ بنائے جاتے تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوج اور سیکیورٹی اداروں نے رواں سال کے دوران 115 بڑی کارروائیاں ناکام بنائی ہیں۔ ان میں بعض فدائی حملے بھی شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
