مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن میں سیاسی اسیران کے اہل خانہ پر مشتمل کمیٹی کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کے ماورائے قانون اقدامات کی ماہانہ رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کے اہلکار ویسے تو انسانی حقوق کی پامالی میں بری طرح بدنام ہوچکے ہیں مگر جولائی میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں اور نہتے شہریوں پر تشدد کے نئے ریکارڈ مرتب کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کے اہلکار فلسطینی شہریوں کو سیاسی بنیادوں پر حراست میں لیتے، عدالتوں سے ان کے کئی کئی ہفتون کے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں حراستی مراکز میں اذیتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کا یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جولائی کے دوران عباس ملیشیا کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں پر تشدد کے 750 واقعات رونما ہوئے۔ پچھلے ماہ فلسطینی سیکیورٹی فورسز نے غرب اردن سے 345 فلسطینیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا اور 253 فلسطینیوں کو اشتہاری قرار دے کران کی گرفتاری کےوارنٹ جاری کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی نیشنل ڈیفنس فورس نے 143 شہریوں کو گرفتار کیا۔ جب کہ 73 شہریوں کی گرفتاریاں پبلک انٹیلی جنس کی جانب سے کی گئیں۔ 129 شہریوں کی گرفتاری کے ذرائع کا پتا نہیں چل سکا تاہم وہ بھی فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں قید پائے گئے ہیں۔
گرفتار کیے گئے شہریوں میں ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان میں 58 طلباء تین انجینیر، سات صحافی، تین استاذہ اور تین آئمہ مساجد شامل ہیں۔ گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں کی حراستی مراکز میں طلبی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سیاسی بنیادوں پر 253 افراد کو حراست مراکز میں طلب کیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
